بھٹکل:7/مئی (ایس اؤنیوز)جماعت اسلامی ہند کی طرف سے مومن ہے فقط احکام ِالہی کا پابند کے عنوان سے ملک گیر سطح پر منائی جارہی مسلم پرسنل لاء بیداری مہم کے تحت شرالی ، تٹی ہکل کے سرکاری اردواسکول کے صحن میں جماعت اسلامی ہند بھٹکل کی طرف سے 6مئی 2017 بروز سنیچر کی شام عوامی اجلاس کا اہتمام کیا گیا ۔
نماز ، روزہ جیسے فرائض کے مقابل اللہ تعالیٰ نے نکاح ، طلاق، فسخ اور وراثت کے متعلق قرآن بہت ہی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ چونکہ ان کا تعلق معاملات سے ہے اور معاملات بہت ہی حساس ہوتے ہیں ان میں تھوڑی سے غفلت بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مسجد احمد سعید کے خطیب مولانا محمد جعفر فقی بھاؤندوی نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا نے بتایا کہ دنیا میں محبت اور خوب صورت کی بنیاد پر جو شادیاں کی جاتی ہیں ان میں سے 90فی صد ناکام ہورہی ہیں، کیونکہ وہاں دین داری کو ترجیح دینےکا اہم سبب ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے علماء ،ذمہ داران عوام کی تربیت کریں کہ زندوں کے ساتھ کیسے زندگی گزاری جاتی ہے تاکہ معاشرہ برائیوں سے پاک ہو۔
یکساں سول کوڈ اور مسلم پرسنل لاء کا تعارف پیش کرتے ہوئے انجمن پی یوکالج بھٹکل کے لکچرر عبدالرؤوٖف سونور نے بتایا کہ انگریزوں نے1937 میں جن اسلامی عائلی قوانین کولے کر شریعت ایکٹ کےنام سے جو بل پاس کیا تھاانہی خاندانی مسائل کو اسلام کے مطابق حل کرنے کے لئے جو اسلامی قوانین ترتیب دئیے گئے ہیں اسی کو مسلم پرسنل لاء کہا جاتاہے۔ انہوں نے بتایاکہ آزادی کے بعد دستور ہندنے دفعہ 25اور29کے تحت ہرایک ہندوستانی شہری کو مذہب پر عمل کرنے، اس کو پھیلانے ، قبول کرنے، اپنی تہذیب وثقافت ، زبان ، رسم و رواج کے تحت اپنے خاندانی معاشرت کو باقی رکھنے کی آزادی دیتا ہے اور اس کو تحفظ فراہم کرتاہے ، مسلم پرسنل لاء انہی معاملات کو حل کرنے کا نام ہے ۔ قانونی ماہرین ، سیاست دان، میڈیا وغیرہ میں یہ غلط فہمی ہے کہ مسلم پرسنل لاء کوئی متوازی قانون ہے ۔انہی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے جماعت اسلامی ہند یہ مہم منانےکی بات کہی۔ دستور میں رہنما اصول کے تحت دفعہ 44کے تحت یکساں سول کوڈ کی بات کی گئی ہے اس کا نفاذ ناممکن ہے کیونکہ جب جانوروں کو ایک ساتھ نہیں ہانک سکتے تو بھلا باشعور اور عقل والوں پر ایک قانون کو لاگو کرنےکی بات کرنا بے وقوفی ہے ۔
جماعت اسلامی ہند بھٹکل کے امیر مقامی مجاہد مصطفیٰ نے جلسہ کی صدار ت کرتے ہوئے کہاکہ مسلمان اپنے خاندانی مسائل کو شریعت کے مطابق حل کرتے ہوئے دنیا کے سامنے عملی نمونہ پیش کریں تو لوگ شریعت کو اپنانے پر مجبو رہونگے۔ اگر کبھی خاندانی یا ازدواجی زندگی میں کوئی مسئلہ یا ان بن پیدا ہوتی ہے تو محکمہ شرعیہ ، اسلامی کونسلنگ سنٹر کی طرف رجوع کریں، علماء سے رابطہ کرکے معاملات کو حل کرنےکی کوشش کریں، عدالتوں کا چکر کاٹ کر خود کی توہین نہ کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے اللہ کا شکریہ اداکرتے ہوئے مقامی علماء، جماعت کے ذمہ داران اور علاقہ کے عوام کا شکریہ اداکیا کہ انہوں نے ایک اہم پروگرام کے لئے موقع عنایت کیا۔ مہم کے کنونیر مولانا سید یاسر ندوی نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں سادگی کااظہار کریں، وراثت میں عورتوں کا جو حق ہے وہ ہرحال میں انہیں ادا کریں۔ ناظم ضلع محمد طلحہ سدی باپا نے تمام کا استقبال کرتے ہوئے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ مولانا حسنین حسنی کی تلاوت قرآن سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ عزیزی افنان نے نعت خوانی کی۔مسجد علی میاں کے امام و خطیب مولانا محمد مجاہد کی دعا پر جلسہ کا اختتام ہوا۔ ڈائس پر جماعت المسلمین شرالی کے صدر د موجود تھے۔ سوسے زائد خواتین سمیت کثیر تعداد میں مرد حضرات شریک تھے، آخر میں تواضع کا اہتمام تھا۔